انٹر نیشنل

غزہ کی تعمیرِ نو میں 80 سال اور 40 ارب ڈالر لگ سکتے ہیں؛ اقوام متحدہ


غزہ میں اسرائیلی بمباری میں 80 ہزار گھر تباہ ہوگئے، فوٹو: فائل

غزہ میں اسرائیلی بمباری میں 80 ہزار گھر تباہ ہوگئے، فوٹو: فائل

جنیوا: اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی بمباری سے غزہ میں تباہ ہونے والے گھروں اور انفرا اسٹریکچر کی بحالی کا روٹ میپ اور تخمینہ پیش کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے غزہ کی حالت چاند کی سطح کی طرح تک ہوگئی۔ 7 ماہ میں 80 ہزار سے زائد گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی بلند و بالا عمارتیں ملیامیٹ اور انفرا اسٹریکچر تباہ ہوگئے جن کی تعمیرِ نو کا کام آئندہ صدی تک ممکن ہو پائے گا اور اس کا تخمینہ تقریباً 40 ارب ڈالر ہے۔

یہ خبر پڑھیں : اسرائیلی بمباری میں 4 بچوں سمیت 26 افراد شہید اور51 زخمی 

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کو تمام تباہ شدہ مکانات کی بحالی کے لیے تقریباً 80 سال درکار ہو گے جب کہ جزوی بحالی میں بھی کم از کم 16 سال لگ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے بعد سے غربت کی شرح 60.7 فیصد تک جا پہنچی ہے جو جنگ سے قبل 38.8 فیصد تھی۔

 

 



Social Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے