مسلسل ویپنگ کرنے والوں میں زہریلی دھاتوں کی موجودگی کا انکشاف


لندن: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ وہ نوجوان جو باقاعدگی سے ویپنگ کرتے ہیں ان کو ایسی زہریلی دھاتوں سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جو ممکنہ طور پر دماغ یا اعضاء کی نشونما کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

محققین کے مطابق میٹھی ای سیگریٹ کے ذائقوں سے اضافی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

امریکی محققین نے اس مطالعے کے لیے پاپولیشن اسسمنٹ آف ٹوباکو اینڈ ہیلتھ (پی اے ٹی ایچ) کی تحقیق میں حاصل ہونے والے 13 سے 17 برس کے درمیان امریکی نوجوانوں کے جوابات کا استعمال کیا جبکہ جرنل ٹوباکو کنٹرول میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں ویپ کرنے والے 200 کے قریب نوجوانوں کو شامل کیا گیا۔

ان نوجوانوں میں 81 باقاعدگی کے ساتھ جبکہ 61 نوجوان کبھی کبھار اور 45 افراد وقفے وقفے سے ویپنگ کرتے تھے۔

برقی سیگریٹ کے استعمال کا تعین روز مرہ کے کش لگانے کی اوسط تعداد سے کیا گیا جس کے تحت باقاعدگی سے استعمال کرنے والے دن میں 27، وقفے وقفے سے ویپنگ کرنے والے 7.9 اور کبھی کبھار ای سیگریٹ پینے والے 0.9 کش لگاتے تھے۔

بعد ازاں ان افراد میں سیسہ، یورینیئم ور کیڈمیئم نامی دھاتوں کی نشان دہی کے لیے پیشاب میں موجود اشاریوں کا معائنہ کیا گیا۔

باقاعدگی کے ساتھ ویپنگ کرنے والے افراد میں کبھی کبھار ویپنگ کرنے والوں کے مقابلے میں یورینیئم کی بلند مقدار پائی گئی۔



Social Share